فیروزآباد،25/دسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جمعہ کے روز جیسے ہی فیروزآباد کے 22 سالہ مقیم کو فیکٹری میں یہ خبر ملی کہ کئی علاقوں میں تشدد ہو رہا ہے اور وہاں کے حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، وہ گھر کے لئے لوٹا لیکن اس کو گھر پہنچنا نصیب نہیں ہوا۔ راستے میں ہی مقیم کے پیٹ میں گولی لگ گئی، اسے فوراً علاج کے لئے آگرہ لے جایا گیا جہاں سے اس کو دہلی کے صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن پیر کی دیر شام اس کا انتقال ہو گیا۔
واضح رہے مقیم کو جس وقت گولی لگی اس وقت بھیڑ اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپ ہو رہی تھی۔ فیروزآباد کے کونسلر اکرم نے ایک اخبار کو بتایا کہ گھر واپس آنے کے دوران مقیم کے پیٹ میں گولی لگی، مقیم ایک چوڑیوں کی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ وہ اپنے سات بہن، بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔
اس دوران پہلی مرتبہ بجنور پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ ایک نوجوان پولیس فارئنگ میں ہلاک ہوا ہے اور پولیس نے گولی اپنی دفاع میں چلائی تھی۔ واضح رہے پیر تک بجنور پولیس کا یہ کہنا تھا کہ پولیس فائرنگ میں کوئی بھی ہلاک نہیں ہوا ہے۔ بجنور ایس پی (دیہات) وشواجیت شریواستوا نے کہا کہا کہ ایک 22 سالہ نوجوان اس وقت ہلاک ہو گیا جب پولیس نے اپنی دفاع میں نہٹور کے علاقہ میں گولی چلائی۔ ایک اخبار کو دیئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا ’’20 دسمبر کو جمعہ کی نماز کے بعد ایک پر تشدد بھیڑ نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور سب انسپکٹر آشیش تومر کی پسٹل چھین لی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس جوان نے اپنی دفاع میں گولی چلائی جس سے مظاہرہ میں شریک سلیمان ہلاک ہو گیا۔
واضح رہے سلیمان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ جب وہ ایف آئی آر کرنے کے لئے تھانہ گئے تو ان کو واپس کر دیا گیا اور ان کو دھمکی دی گئی کہ ان کو خطرناک انجام بھگتنے پڑیں گے۔ اتر پردیش کے کئی علاقوں میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں اور کئی اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات ابھی معطل ہیں۔